1 دسمبر 2013 - 20:30
امریکی اقدامات پر افغان قومی سلامتی کا شدید رد عمل

افغانستان کي قومي سلامتي کونسل نے امريکي جانب سے ايندھن اور فوجي امدادي کي بندش پر سخت ردعمل ظاہر کيا ہے۔

ابنا: افغانستان کي قومي سلامتي کونسل کي جانب سے جاري ہونے والے بيان ميں امريکي اقدام کي مذمت کرتے ہوئے  اسے کابل- واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر دستخط کي غرض سے افغانستان پر دباؤ ڈالنے کا ايک حربہ قرار ديا گيا ہے۔ افغانستان کےوزير دفاع اور وزير داخلہ نے قومي سلامتي کونسل کے اجلاس کو بتايا ہے کہ امريکہ نے افغان فوج اور پوليس کے لئے ايندھن اور ديگر ساز و سامان کي سپلائي بند کردي ہے۔ انہوں نے کہا کہ امريکہ کے يہ اقدامات دونوں ملکوں کےدرميان پہلے سے طے شدہ معاہدوں کي خلاف ورزي ہے۔واضح رہے کہ افغانستان حامد کرزئي نے کابل واشنگٹن معاہدے پر دستخط کو اپنے ملک ميں امن و امان کے قيام اور رہائشي علاقوں پر نيٹو کے حملے بند کئے جانے سے مشروط کرديا ہے۔ افغانستان نے گوانتانامو جيل ميں بند افغان قيديوں کو بھي رہا کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے۔ امريکي حکومت کابل - واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر جلد از جلد دستخط کئے جانے کا مطالبہ کر رہي ہے تاہم افغانستان صدر کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط دوہزار چودہ ميں ہونے والے صدارتي انتخابات کے بعد کئے جائيں گے۔متعدد افغان تجزيہ نگار اور اعلي حکام کابل - واشنگٹن معاہدے کو شرمناک معاہدہ قرار دے رہے ہيں اور انہوں نے اس معاہدے کے تحت افغانستان ميں باقي رہنے والے امريکي فوجيوں کو عدالتي استثني ديئے جانے اور امريکي فوجي اڈوں کے قيام جيسے معاملات کو ملکي اقتدار اعلي کے منافي قرار ديا ہے۔......./169